https://www.rayznewstv.com/

Share the Love


گئے وقتوں کی بات ہے کہ ایک مدرسے میں چوری ہوگئی۔ کسی نے کہا کہ مدارس والے بھی چور ہوگئے۔ اہل علم و عقل نے جواب دیا کہ نہیں چور مدارس میں آگئے۔

یہ واقعہ ان لوگوں کےلیے ایک مثال ہے جو ایک غیر معروف عالم دین کے بدبودار عمل کو بنیاد بنا کر مدارس کے خلاف اپنی گندی ذہنیت کا اظہار کر رہے ہیں اور دین کی خدمت کے لبادے میں دین کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرواتے کہ کم ازکم اس معاملے میں تو اسلامی سزاؤں پر من و عن عمل کیا جائے، تاکہ وطن عزیز کو اس طرح کے غلیظ جرائم سے پاک کیا جاسکے۔ کیونکہ آج یہ ایک بچے کے ساتھ ہوا ہے تو کل کسی دوسرے بچے کے ساتھ کوئی مجرم ذہنیت کا شخص روحانی باپ کے لبادے میں اخلاق سوز جرم کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ اس لیے ایسے واقعات کا جڑ سے خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اور میرے وہ دوست جو اس واقعے کی آڑ میں مدارس پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، ان کی خدمت میں انتہائی ادب سے عرض ہے کہ 1970 کی دہائی میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی وطن عزیز میں اکھاڑ پچھاڑ شروع کردی۔ شاید ہی کوئی شعبہ ہو جو بچ پایا ہو، سوائے مدارس کے۔ بھٹو کے اقدامات کے نتیجے میں لکھ پتی ککھ پتی ہوگئے، ملک کی ہیئت بدل گئی، مگر مدارس سے چھیڑ چھاڑ کی جرأت بھٹو بھی نہ کرسکا۔

گزرتے وقت کے ساتھ مدارس کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت مدارس کی کل تعداد 250 کے قریب تھی، جو اب 2021 میں 30000 تک پہنچ چکی ہے۔ مدارس میں لاکھوں طلبا زیر تعلیم ہیں۔

بلاشبہ ہمارے مدارس احیائے دین کا فریضہ بطریق احسن سر انجام دے رہے ہیں۔ اس لیے ایسے ناسمجھ بھائیوں سے عرض ہے کہ مدارس کو تنقید کا نشانہ بناکر اگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ عوام کو مدارس سے بدظن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، یقینی طور پر یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جرائم سے پاک ہوتے۔ دنیا کا کوئی مذہب جرائم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ دنیا کے کسی مذہب میں جرم کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مذہب کو عملی طور پر تسلیم نہیں کررہا۔ البتہ یہ واقعہ مدارس کی اصلاح احوال کا تقاضا ضرور کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تمام مشہور و معروف علما جو اس واقعے پر تنقید کررہے ہیں، اس کی مذمت کررہے ہیں، ان کی خدمت میں انتہائی ادب سے عرض ہے کہ تنقید سے آگے نکلیے۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ مجرم کو اسلامی قوانین کی روشنی میں قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی کو بھی ان مقدس اداروں، جن پر عوام کا اندھا اعتماد ہوتا ہے، کو اپنے مذموم مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔

اور آخر میں مدارس کی انتظامیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ براہِ کرم جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایسے واقعات کا سو فیصد قلع قمع کریں، بصورت دیگر کہیں ایسا نہ ہو مدارس کے دشمن کامیاب ہوجائیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

 

In the past, a madrassa was robbed. Someone said that the people of madrassas also became thieves. The scholars replied that the thieves did not come to the madrassas.

This incident is an example for those who are expressing their filthy mentality against madrassas on the basis of the stinking action of an unknown religious scholar and trying unsuccessfully to defame religion in the guise of serving religion.

We should have used social networking sites to draw the attention of the government to the fact that at least in this case, Islamic punishments should be enforced, so that the beloved homeland To be cleansed of crime. Because today it has happened to one child, tomorrow with another child a person with a criminal mindset can commit a moral crime in the guise of a spiritual father. Therefore, eradication of such incidents is a matter of urgency.
And in the service of my friends who are throwing mud at the madrassas under the guise of this incident, it is very polite that in the 1970s, the first elected Prime Minister of Pakistan, Zulfiqar Ali Bhutto, as soon as he came to power, ۔ There is hardly a department that has survived, except madrassas. As a result of Bhutto's actions, the country's image changed, but even Bhutto did not dare to tamper with the madrassas.

With the passage of time, the prestige of the madrassas increased. History shows that at the time of the formation of Pakistan, the total number of madrassas was around 250, which has now reached 30,000 in 2021. Millions of students are studying in madrassas.

Undoubtedly, our madrassas are performing their duty of reviving religion in the best possible way. Therefore, we ask such ignorant brothers to criticize the madrassas and if they think that they will succeed in making the people disgusted with the madrassas in this way, it is definitely their misunderstanding. Because crime has no religion. If that were the case, the developed countries of the world today would be crime-free. No religion in the world encourages crime. No religion in the world allows crime. If someone commits a crime, it means that he is not practicing religion. However, this incident certainly calls for the reform of madrassas.

There is a need for all the well-known and well-known scholars who are criticizing this incident to condemn it. Make sure that the culprit is really punished in the light of Islamic law, so that no one will dare to use these sacred institutions, on which the people have blind faith, for their nefarious purposes.

And finally, in the service of the management of the madrassas, we request you to use modern technology to eradicate such incidents, otherwise the enemies of the madrassas may succeed.

Note: Express News and its policy do not necessarily agree with the views of this blogger.

If you also want to write an Urdu blog for us, pick up a pen and write 500 to 1,000 words with your photo, full name, phone number, Facebook and Twitter IDs and your brief but comprehensive introduction to blog@express.com. Email pk.

Share the Love


Source
You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.