Share the Love

نیویارک: فضائی آلودگی کا ایک اورخطرناک پہلو سامنے آیا ہے جس کے بعد سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ کثیف اور گندی فضا میں طویل عرصے تک سانس لینے پر سونگھنے کی حِس متاثر ہونے کا خطرہ دوگنا ہوسکتا ہے۔

قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی حس قدرت کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اس طرح غذائی عادات بھی متاثر ہوتی ہے اور بو اور گیس وغیرہ کوپہچاننے میں بھی مدد ملتی ہے۔ سونگھنے کی حس ختم ہوجائے تو اسے طبی زبان میں اینوسمیا کہا جاتا ہے۔  اس کیفیت کی وجہ سے مریض ڈپریشن کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ مرگپن رامناتھن کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک سروے میں کئی افراد کو شامل کیا جن میں سے کئی افراد ٹریفک اور آلودگی والے علاقوں میں ایک عرصے سے رہ رہے تھے۔ اس تحقیق میں فضائی آلودگی کے سب سے خطرناک ذرات پی ایم (پارٹیکیولیٹڈ میٹر) 2.5 درجے کے ہوتے ہیں یعنی ڈھائی مائیکرون جسامت یا اس سے چھوٹے ذرات جو انسانی بال کی موٹائی سے بھی تیس درجے کم ہوتے ہیں۔ جب انسانوں کو مسلسل پی ایم 2.5 کا سامنا ہوتا ہے تو دھیرے دھیرے ان کے سونگھنے کی حس متاثر ہوسکتی ہے۔ یعنی عام حالات کے مقابلے میں آلودہ فضا میں سانس لینے سے سونگھنے کی حس جانے کا خطرہ دوگنا بڑھ سکتا ہے۔ ان میں گردوغبار، راکھ، دھواں، کالک، نامیاتی مرکبات اور دھاتی ذرات ہوسکتے ہیں اور سب کے سب ڈھائی پی ایم کے دائرے میں ہوسکتے ہیں۔
سائنس سے ثابت ہوچکا ہے کہ پی ایم 2.5 بلڈ پریشر، عارضہ قلب اور دیگر کئی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ ڈاکٹر رامناتھن اور ان کے ساتھیوں نے 2690 افراد کا جائزہ لیا جن کی عمر 18 برس اور اس سے زائد تھی اور مسلسل تین برس تک ان جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 538 سونگھنے کی حس سے محروم ہوگئے جن کی اوسط عمر 54 برس تھی اور اکثریت مردوں پر مشتمل تھی۔

جب ان افراد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سونگھنے کی حس کھونے والے اکثر افراد فضائی آلودگی کے اہم مقامات پر عرصے سے رہ رہے تھے۔


New York: Another dangerous aspect of air pollution has come to light, after which scientists insist that prolonged breathing in dense and dirty air can double the risk of affecting the sense of smell.

The sense of smell is a great gift of nature. It also affects eating habits and helps to identify odors and gases. When the sense of smell disappears, it is called anosmia in medical parlance. Patients with this condition can also suffer from depression.

Rampanathan Ramanathan of the Johns Hopkins University School of Medicine says he surveyed a number of people, many of whom had lived in traffic and pollution areas for some time. In this study, the most dangerous particles of air pollution are PM (particulate matter) 2.5 degrees, ie particles two and a half microns in size or smaller, which are thirty degrees less than the thickness of human hair. When humans are constantly exposed to PM2.5, their sense of smell may gradually be affected. That is, breathing in polluted air can double the risk of sniffing compared to normal conditions. They can contain dust, ash, smoke, soot, organic compounds and metal particles, all in the range of 2.5 ppm.
Science has shown that PM2.5 causes blood pressure, heart disease and many other diseases. Dr. Ramanathan and his colleagues surveyed 2,690 people aged 18 and over for three consecutive years. Of these, 538 lost their sense of smell, with an average age of 54, and the majority were men.

When these individuals were examined in detail, it was found that most of the people who lost their sense of smell had been living in important places of air pollution for a long time.

Share the Love

You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.