https://www.rayznewstv.com/

Share the Love


مسلمانانِ فلسطین و کشمیر گزشتہ کئی عشروں سے یہودی اور ہندو ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ اعداد وشمار سے عیاں ہے کہ مسلمان تعداد اور اقتصادی وسائل کے اعتبار سے برتری رکھنے کے باوجود مسلسل زیرِ عتاب ہیں۔ اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور عامتہ الناس کی جذباتی جبلّت ہے۔

مسلم امہ کےلیے اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ مگر افسوس کہ مسلم حکمران قول و فعل کے تضادات، ذاتی تشہیر، باہمی چپقلشوں، عیش پرستیوں کے علاوہ خبطِ عظمت کا بھی شکار ہوگئے۔ اس تمام قضیہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج عرب و عجم کے حکمرانوں کا وہی حال ہے جو آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کا تھا۔ ہاتھوں میں سکت نہیں، قدموں میں جسارتِ جنبش نہیں، اور لفاظی میں تاثیر نہیں۔

گرو تو ساتھ گرے شانِ شہسواری بھی
زوال آئے تو پورے کمال میں آئے

 
مسلم حکمران اپنے آپ سے باہر نکل سکے اور نہ ہی عامتہ الناس کی فکری اور شعوری تربیت کرسکے۔ یہی فکری اور شعوری دیوالیہ پن آج ایک عام مسلمان میں راسخ ہوچکا۔ یقین نہ آئے تو سوشل میڈیا پر عام لوگوں کا فلسطین کی تازہ صورت حال پر احوال ملاحظہ کیجئے۔ کوئی صلاح الدین ایوبی کو پکار رہا ہے، کوئی مسلمانوں کی عمومی صلاحیت پر ماتم برپا کررہا ہے، کوئی عمران خان پر تبرا پڑھ رہا ہے، کوئی ماضی کے ترک حکمرانوں کو یاد کر رہا ہے، اور کوئی عظمتِ رفتہ کی مدھر دھنوں پر محوِ رقصاں ہے۔


 
عام مسلمانوں اور حکمرانوں کے علاوہ علمائے دین بھی مسلم امہّ کی اس حالتِ زار کے ذمے دار ہیں۔ آج کا عالم اپنی ترجیحات کا درست ادراک کرنے میں مکمل ناکام نظر آتا ہے۔ مختلف مکاتیبِ فکر کے علما عمومی طور پر فکری دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے۔ ان کے مباحث محض چند موضوعات تک محود ہوچکے۔ اندازِ تکلم انتہائی سخت اور اپنے مخالفین کےلیے گفتگو کا معیار انتہائی عامیانہ ہوچکا۔ حکمرانوں کی طرح مزاج میں ذاتی تشہیر اور خبطِ عظمت کا جذبہ بھی طشت از بام ہوچکا۔ اور یقیناً علما کی قبیل میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جو ان تمام علّتوں سے مبرا ہیں۔ لیکن اکثریت کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔


 
کسی بھی سانحے یا المیے سے نبردآزما ہونے کےلیے ضروری ہے کہ جذبات کا پیرہن اتارا جائے۔ جذباتی عدم توازن غالب ہو تو انسان یا اقوام صورتِ حال کا نہ ہی درست تجزیہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی بہتر منزل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں۔ ایک مثال سے یہ نقطہ واضح کیے دیتا ہوں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد معاشی اعتبار سے جاپان تقریباً مردہ ہوچکا تھا۔ جاپان کے دو اہم صنعتی شہر صفحہ ہستی سے مٹ چکے تھے۔ اس عظیم سانحے کے بعد جاپانی قوم میں بھی جذبات کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا اور پوری قوم امریکا کے خلاف انتقام کی آگ بھڑکا چکی تھی۔ اس نازک مرحلے پر جاپان کی سیاسی قیادت کے درست فیصلوں نے ملک کی کایا پلٹ دی۔ شکست کو تسلیم کیا۔ انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ اور اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم اور صنعتی شعبوں میں ترقی کےلیے صرف کردیں۔ بالآخر جاپان چند عشروں میں ناصرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آن کھڑا ہوا۔


 
تعصب کی عینک اتار دی جائے اور ٹھندے دل سے غور کیا جائے کہ مسلم امہ نے گزشتہ ایک صدی کے دوران کیا کیا؟ کبھی ایک سیاسی تحریک چلائی تو کبھی دوسری۔ کوئی تحریک کامیاب ہوئی تو کوئی ناکام۔ ہر تحریک میں عام مسلمانوں کا خون بے دریغ بہا۔ ان تحریکوں نے اپنے بعض مقاصد کو ضرور حاصل کیا۔ لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گماں گزرتا ہے مسلمان اوج ثریا پر جانے کے بجائے پستیوں کی جانب رواں دواں رہے۔ اس امر کی وجوہات سادہ سی ہیں۔ نہ کسی سیاسی حکمران نے عوام کی اخلاقی تربیت کی۔ نہ کسی حاکم نے اپنی ترجیحات کو درست کیا۔ بلکہ حکمرانوں نے ازخود تمام سیاسی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی روایات کی دھجیاں اڑا دیں۔ اور ان ہی عوامل کی بنیاد پر ایک معاشرہ وجود میں آیا۔ ایک کھوکھلا معاشرہ۔ ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری۔

تاریخ کے اوراق بتلاتے ہیں کہ مسلمان دنیا اندرونی خلفشار اور لڑائیوں کا شکار ہوگئی۔ اسی اثناء میں ایک صدی سے زائد عرصہ گزر گیا۔ تمام تر توانائی اندرونی لڑائی میں لگ گئی۔ انہی حماقتوں کے باعث پہلے برطانیوں نے جبروستم کی داستاں رقم کی۔ پھر روس نے۔ اور اب امریکا بہادر ہم پر مسلط ہے۔ امریکا کے بعد اگلا نمبر چین کا ہے۔ تمام قرائن اسی جانب گامزن ہیں۔


 
مسلمان دنیا میں جب جب ظلم و جبر کا بازار گرم ہوا تو حکمراں طبقے نے انہی اقوام کو مدد کی صدا دی جو ظالموں کی پشت پناہی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ یعنی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ جسں عطار کے سبب بیمار ہوئے اسی کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ عام مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کےلیے دعا کی اور اپنی عظمتِ رفتہ کے قصیدے پڑھے۔ علمائے عرب وعجم نے مظلوم مسلمانوں کےلیے دعا کی اور ظالموں کےلیے بددعا۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کو صدا دی۔ سیاسی لیڈروں اور اقتدار کے ایوانوں نے تقاریر سے اپنا اپنا کام چلایا۔ اور یوں سب نے اپنے تئیں مظلوم کے ساتھ ہمدردی کا حق ادا کردیا۔

مگر اب ایسا چلنے کا نہیں۔ جو کام ہم نے کیے سب کے سب سطحی نوعیت کے ہیں۔ حقیقت سے ان کا دور دور لینا دینا نہیں۔ کسی کی مدد کرنے کےلیے انسان کا اپنا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر مدد محض لفاظی کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اسی قسم کی مدد فلسطین وکشمیر کے مظلوم عوام آج مسلمانوں سے پا رہے ہیں۔ اپنے کردار کی بہتری اور محنت سے اللہ کی نصرت کو صدا دیں اور پھر دیکھیے دعائیں قبول ہوتی ہیں یا نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کو یاد رکھیے۔ اللہ رب العزت کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلے۔

پہلے پہل بدلنے کا فیصلہ کیجئے۔ کیا ایسے ہی وقت گزارنا ہے یا اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنا ہے۔ اگر ماضی جیسا عروج حاصل کرنا ہے تو انسان سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ آج کے مسلمان کو جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ سیاسی رہنماؤں کو اپنی شخصیت پرستی کے خول کو توڑ کر اقوام کو اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر استوار کرنا ہوگا۔ جدید علوم میں مہارت پیدا کرنا ہوگی۔ تعلیمی معیار بلند کرنا ہوگا۔ صحت کے شعبے میں ترقی کو شعار بنانا ہوگا۔ دینی تعلیم کا علم پیشہ ور ملاؤں سے چھین کر ریاست کو خود تھامنا ہوگا۔ مذہبی شدت پسندی کی لعنت کا تدارک کرنا ہوگا۔ مذہبی روادری کو فروغ دینا پڑے گا۔ سب سے بڑھ کر اہم یہ کہ جذباتی جبلّت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ معاشرے میں عدم برداشت کو ختم کرنا پڑے گا۔ زرعی و صنعتی ترقی کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔

تعلیمی میدان میں ترقی اقتصادی ترقی کی ضمانت ہے۔ اقتصادی ترقی مضبوط دفاع کی ضمانت ہے۔ اور مضبوط اقتصادی و دفاعی قوت ہی آج ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات کا جانفشانی سے مقابلہ کرسکتی ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے۔ مسلم امہ اپنی موجودہ حالت پر ماتم کرنے کے بجائے اپنی ساری توانائی تعلیم اور اقتصادی ترقی پر صرف کرے۔ بتدریج تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کو اپنا ہدف بنائے۔ سفر کٹھن بھی ہے اور طویل بھی۔ لیکن مسئلے کا دیرپا حل یہی ہے۔

ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ماضی کی حیثیت محض ایک قبرستان کی ہے۔ اور یقیناً ہمارے قبرستان میں کئی نادر اور قیمتی لوگ بھی مدفون ہیں اور کئی قیمتی روایات بھی۔ لوگ تو آنے کے نہیں۔ انہیں صدا دینا محض سعیٔ لاحاصل ہے۔ البتہ چند روایات کو زندہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے علم کی کھوئی ہوئی روایت کو آج بھی زندہ کیا جا سکتا ہے۔ بہرکیف اپنے اسلاف کی درخشاں داستانِ شجاعت کو ضرور یاد کیجئے، مگر ماضی میں جینا چھوڑ دیجئے۔ حالتِ آج میں حالتِ کل کے بوج بوئیں۔ اور علامہ اقبال کی اس نصحیت پر بھی ضرور غور کیجئے۔

تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو

The Muslims of Palestine and Kashmir have been victims of Jewish and Hindu state terrorism for decades. It is clear from the statistics that Muslims, despite being dominant in terms of numbers and economic resources, are constantly under attack. There are several main reasons for this. The biggest reason is the indifference of the Muslim rulers and the sentimentality of the people.

Allah Almighty opened the mouths of His treasures for the Muslim Ummah. But unfortunately, the Muslim rulers fell prey to contradictions of words and deeds, personal propaganda, mutual squabbles, luxuries as well as arrogance. The result of all this is that the condition of the rulers of Arabia and Ajam today is the same as that of the last Mughal ruler Bahadur Shah Zafar. There is no strength in the hands, no boldness in the feet, and no eloquence.

Guru also fell with the glory of the princess
When the fall came, it came to perfection

 
Muslim rulers could not get out of themselves nor could they train the minds and consciousness of the people. This intellectual and conscious bankruptcy has become ingrained in the average Muslim today. If you can't believe it, look at the latest situation in Palestine on social media. Some are calling for Salahuddin Ayubi, some are lamenting the general ability of Muslims, some are praising Imran Khan, some are remembering the Turkish rulers of the past, and some are dancing to the melodious melodies of greatness. Is.


 
Apart from ordinary Muslims and rulers, religious scholars are also responsible for the plight of the Muslim Ummah. Today's world seems to have failed miserably in realizing its priorities. Scholars of different schools of thought have generally suffered from intellectual bankruptcy. Their discussions are limited to a few topics. The style of speech has become very strict and the quality of speech for its opponents has become very popular. Like the rulers, the spirit of self-promotion and arrogance has vanished. And of course, there are many personalities in the tribe of ulema who are free from all these causes. But the condition of the majority is unspoken.


 
In order to cope with any tragedy or tragedy, it is necessary to take off the cloak of emotions. When emotional imbalances prevail, human beings or nations can neither accurately analyze the situation nor move towards a better destination. Let me make this point clear with an example.

After World War II, Japan was almost dead economically. Japan's two largest industrial cities were wiped out. After this great tragedy, the Japanese nation was also in a sea of ​​emotions and the whole nation had ignited the fire of revenge against America. At this critical juncture, the right decisions of Japan's political leadership turned the country upside down. Admitted defeat. Cooled the fire of revenge. And devote all your energies to development in the fields of education and industry. In the last few decades, Japan has not only stood on its own two feet, but also on the list of developed countries.


 
Take off the lens of prejudice and consider with a cold heart what the Muslim Ummah has done during the last century. Sometimes one political movement, sometimes another. Some movements succeed, some fail. The blood of ordinary Muslims flowed relentlessly in every movement. These movements did achieve some of their goals. But if we look at it as a whole, it is sad that instead of going to the peak of Suraya, Muslims continue to go downhill. The reasons for this are simple. No political ruler trained the morals of the people. No ruler adjusted his priorities. On the contrary, the rulers themselves blew up all political, social, moral and religious traditions. And it is on the basis of these factors that a society came into being. A hollow society. Devoid of any morality.

The pages of history show that the Muslim world became a victim of internal strife and wars. More than a century has passed since then. All the energy went into the civil war. It was because of these follies that the British first fabricated stories of oppression. Then Russia. And now America is bravely imposing on us. China is next after the United States. All the verses are moving in this direction.


 
In the Muslim world, whenever the market for oppression heats up, the ruling class cries out for help to the nations that have made it their motto to support the oppressors. In other words, it is a sign of helplessness that those who became ill due to perfume take medicine from the same slave. Ordinary Muslims prayed for their brothers and recited hymns of their greatness. Arab and non-Arab scholars prayed for the oppressed Muslims and cursed the oppressors. And called for the help and support of Allah Almighty. Political leaders and the houses of power did their work with speeches. And so everyone paid their respects to the oppressed.

But not anymore. Everything we do is superficial. Don't let them get away from reality. To help someone, one must be strong. Otherwise the help will be nothing but rhetoric. The oppressed people of Palestine and Kashmir are getting the same kind of help from Muslims today. Call on the help of Allah with the improvement of your character and hard work and then see if the prayers are accepted or not.

Remember a decision of Allah Almighty. God Almighty does not change the condition of a nation unless it changes its own condition.

Decide to change first. Is it to spend such a time or to restore one's greatness? If we want to achieve the same heights as in the past, we have to focus on humanization. Today's Muslims have to adapt to modern requirements. Political leaders break the shell of their individualism and lead nations on high moral principles

Share the Love


Source
You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.