Share the Love

لندن: ہم انسان اکثر بھوک میں غصیلے ہوجاتے ہیں جس کے لیے انگریزی میں ہینگری کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ مشہور پھل مکھیوں (فروٹ فلائی) کے نر بھی بھوک سے بے تاب ہوکر آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔

برطانیہ کی ایسٹ اینجلیہ یونیورسٹی کی پروفیسر جینیفرپیری کہتی ہیں کہ ’ نر مکھے نرپر ہی حملے کرتے ہیں اور ماداؤں کو کچھ نہیں کہتے۔ بلکہ بعض تو اپنی ٹانگوں کو تلواروں کی طرح سامنے مکھی پرسونت لیتے ہیں۔‘

تجربے میں سائنسدانوں نے پھل مکھی (ڈروسوفیلا میلانوگیسٹر) کے نروں کو پانچ گروہوں میں تقسیم کیا جس میں 58 اور 74 مکھیاں ایک جگہ رکھی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک گروہ میں وہ بالغ تھے جو کیڑے سے مکھی بنے تھے اور انہیں نیاروپ ملنے کے بعد کچھ بھی نہیں کھلایا گیا تھا۔ جبکہ دوسرے گروہ کو پورے تجربے میں غذا دی گئی، جبکہ تیسرے گروہ کو کھانا دیا گیا لیکن 24، 48 اور 72 گھنٹوں تک بھوکا رکھا گیا۔
اس کے بعد چھ سے سات دن پرانی مکھیوں کے جوڑوں کو ساتھ رکھا گیا اور ان کے پاس کھانا رکھ کر پانچ گھنٹے تک ان کا جائزہ لیا گیا اور اس عرصے میں ان کا برتاؤ ریکارڈ کیا گیا۔

جیسے ہی مکھیاں کھانا کھانے کے بعد بھوکی رکھی گئیں وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں اور یہ رحجان عام دیکھا گیا۔ یہ تحقیق اس لئے بھی ضروری ہے کہ پھل مکھی کے جین کا بڑا حصہ انسانوں جیسا ہے اور مکھیوں پر کی گئی تحقیق کسی حد تک انسانوں سے تعلق بھی رکھتی ہے۔


London: We humans often get angry with hunger for which the word Hungary is used in English. But now it is known that the males of the famous fruit fly also start fighting with each other, impatient with hunger.

Jennifer Perry, a professor at the University of East Anglia in the UK, says: "Males attack only bees and do not say anything to females. Some even use their legs like swords in front of a fly. '

In the experiment, scientists divided the males of the fruit bee (Drosophila melanogaster) into five groups, with 58 and 74 bees housed together. In one of these groups, there were adults who turned into insects into flies and were not fed anything after receiving the new form. The second group was fed throughout the experiment, while the third group was fed but kept hungry for 24, 48 and 72 hours.
Pairs of six- to seven-day-old bees were then kept together and examined for five hours with food in them, during which time their behavior was recorded.

As soon as the bees got hungry after eating, they started fighting with each other and this trend was seen. This research is also important because most of the fruit bee genes are human-like, and the research on bees is somewhat related to humans.

Share the Love

You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.