https://www.rayznewstv.com/

Share the Love


بوسٹن: بچے ہوں یا بڑے اکثرانہیں دوا بھری بڑی بڑی گولیاں نگلنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے اور اسی وجہ سے کئی مریض دوا لینے سے بھاگتے ہیں۔

اب میساچیوسیٹس انسٹٰی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی( ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے گولی کے انہی اجزا کو مختصرکرکے ان کی جسامت نصف کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح اب بڑی دوا کو اختصار کے ساتھ تیارکرکے انہیں کھانے میں آسانی ہوجائے گی۔

 
یہ نئی ٹیکنالوجی بالخصوص ان دواؤں کے لیے مؤثر ہے جو پانی میں حل ہوجانے والے سالمات سے پرمشتمل ہوتی ہی ۔ انہیں ایکٹوفارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹ (اے پی آئی) کہا جاتا ہے جوہردوا کا اہم جزوہوتے ہیں۔ اس وقت جتنی بھی دوائیں موجود ہیں ان کی 60 فیصد تعداد اسی نوعیت کی ہے، یعنی اس طریقے سے اکثر ادویہ سکیڑی جاسکتی ہیں۔
فی الحال اے پی آئی اجزا کو نینو کرسٹلز کی صورت میں پیسا جاتا ہے تاکہ انسانی خلیات انہیں اچھی طرح جذب کرسکیں۔ اس کے بعد ان کرسٹلز کو ’ایکسیپیئنٹس‘ نامی مرکبات میں ملایا جاتا ہے جسی کی ایک مثال سیلیولوز سے حاصل شدہ پالیمرہے جسے میتھائل سیلیولوز کہا جاتا ہے۔ اس سے اے پی ائی مستحکم ہوجاتے ہیں اور ان کا اخراج کںٹرول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ پانی میں باآسانی گھل جاتے ہیں اور جسم میں جاکر اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔

لیکن یہ عمل بہت وقت اور توانائی مانگتا ہے اور اس کا دوا کی تاثیر پر بھی اثر ہوتا ہے۔ اسی حل کے لیے ایم آئی ٹی کے پروفیسر پیٹرک ڈوئل اور ان کے طالبعلموں نے دواسازی کا نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ اب سائنسدانوں نےکولیسٹرول کم کرنے والی ایک دوا پر کام کیا جس کا عام نام ’فینوفائبریٹ‘ ہے۔ پہلے اسے ایک قسم کے تیل’ اینیسول‘ میں گھولا گیا۔ پھر اسے الٹراسونکیشن کے عمل سے گزار کر دونوں اجزا کو پانی کو ملایا گیا۔ اب یہ آمیزہ ایک گاڑھے ایملشن کی شکل اختیار کرگیا۔

اگلے مرحلے میں نینو ایملشن کو گرم پانی میں ڈالا گیا جہاں وہ ٹھوس ہوگیا اور ذرے سے ٹھوس جیل نما قطرہ بن گیا۔ اس طرح خشک کرنے پر ایک دوا وجود میں آئی جس میں فینوفائبریٹ کے نینوکرسٹلز ہموار انداز میں پھیلے ہوئے تھے۔ اب انہیں پیس کر گولی بنائی گئی ۔ اس طرح جیل کو فوری طور پر کسی بھی سانچے میں ڈال کر گولی بنائی جاسکتی ہے۔

اس طرح گولیوں کو انہی اجزا اور طاقت کے ساتھ بنایا گیا تو وہ 50 فیصد چھوٹٰی تھیں۔ اس طرح کولیسٹرول کم کرنے کی ایک دوا کی گولی کو چھوٹا کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے دیگر دواؤں پر آزمایا جائے گا۔

 

Boston: Children or adults often have great difficulty swallowing large pills full of medicine, which is why many patients run away from taking the medicine.

Now, scientists at the Massachusetts Institute of Technology (MIT) have succeeded in halving the size of these pill components. In this way, it will be easier for them to eat by preparing the big medicine with brevity.

 
This new technology is especially effective for medicines that contain water-soluble molecules. They are called ActoPharmaceutical Ingredients (APIs) and are an important component of herbal medicine. About 60% of the drugs currently available are of this type, meaning most drugs can be compressed in this way.
API components are currently crushed into nanocrystals so that human cells can absorb them well. These crystals are then mixed into compounds called excipients, an example of which is a polymer derived from cellulose called methyl cellulose. This strengthens the APIs and makes it easier to control their emissions. They dissolve easily in water and become part of the body.

But this process takes a lot of time and energy and also affects the effectiveness of the medicine. To address this, MIT professor Patrick Doyle and his students have devised a new pharmaceutical method. Scientists are now working on a cholesterol-lowering drug called fenofibrate. First it was dissolved in a type of oil called anisol. It was then subjected to ultrasonication and the two components were mixed with water. This mixture now takes the form of a thick emulsion.

In the next step, the nano-emulsion is poured into hot water where it solidifies and becomes a solid gel-like droplet. This drying resulted in a drug in which the nanocrystals of phenofibrate were spread evenly. Now they have been ground into a bullet. In this way, the gel can be immediately poured into any mold to make a pill.

When the tablets were made with the same ingredients and strength, they were 50% smaller. Thus, a cholesterol-lowering pill has been shortened. In the next phase, it will be tested on other drugs.

Share the Love


Source
You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.