https://www.rayznewstv.com/

Share the Love


کیلیفورنیا: شطرنج کو بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے، لیکن آج ہم آپ کا تعارف شطرنج کی ایک ایسی کھلاڑی سے کروارہے ہیں جو برق رفتاری سےاپنے مخالف کو زیر کر دیتی ہے، وہ جنگ کے میدان میں گھوڑے پر سوار سپہ سالار کی طرح اپنے حریف کو اس کے کمفرٹ زون سے نکال کر مات دینے کی ماہر ہیں۔

ان کی شطرنج کی بساط پر چالیں اس قدر مشہور ہیں کہ وہ درجنوں مقابلوں میں اپنے حریفوں کو شہہ مات دے کر دنیا کے بہترین شطرنج کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہوچکی ہیں۔

لیکن شطرنج کی بساط پر پھرتی سے مہروں اور شاہ کو مات دینی والی 41 سالہ جیسیکا لاؤسر کی ایک خوبی انہیں دنیا کے دیگر چیمپئنز سے ممتاز کرتی ہے۔  ایسے کھیل میں جہاں عقاب جیسی تیز نظروں کی ضرورت ہو وہاں جزوی نابینا جیسیکا نے اپنی دھاک جمائی ہوئی ہے۔
سی سی این کو دیے جانے والے انٹرویو میں جیسیکا کا کہنا ہے کہ شطرنج کا کھیل انہیں دیوانگی کی حد تک پسند ہے اور وہ اسے بچپن سے کھیل رہی ہیں، لیکن اپنی معذوری کو انہوں نے کبھی اپنے کی جنون کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ جب میں شطرنج کھیلتی ہوں تو مجھے برابری کا احساس ہوتا ہے، جب آپ کھیل کا آغاز کرتے ہیں تو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں، آپ کی جسمانی کنڈیشن کیا ہے، آپ کا تعلق کہاں ہے اور آپ کتنے امیر ہیں، بس کھیل برابری کی بنیادپر شروع ہوتا ہے۔‘

اپنے نابینا پن کے بارے میں جیسیکا کاکہنا ہے کہ ان کی پیدائش وقت سے پہلے ہی ہوگئی تھی اورآکسیجن کی کمی سے ان کی آنکھیں متاثر ہوئیں جسے طبی زبان میں ریٹینو تھیراہی کہتے ہیں، جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی تو مکمل طور پر چلی گئی جب کہ دوسری آنکھ سے انہیں بہت معمولی دکھائی دیتا ہے۔

شطرنج کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میں نے سات سال کی عمر میں اس کھیل کو سیکھنا شروع کیا،مجھے بِساط پر شطرنج کے مہرے بہت دھندلے دکھائی دیتے ہیں، زیادہ ترمہروں کی شناخت نہیں کر پاتی، کسی مہرے کی شناخت کے لیے وہ اس پر انگلی رکھ کر پوچھ لیتی ہیں کہ یہ کیا ہے؟ اور اس کے بعد وہ اپنی چال چلتی ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں جیسیکا نے معذوروں کے لیے ہونے والے سالانہ بین الاقوامی مقابلے ’ اولمپیئڈ‘ میں دیگر چار کھلاڑیوں کے ساتھ حصہ لیا اور 44 ملکوں کی 60 ٹیموں میں جیسیکا کی ٹیم ٹاپ ٹین میں آئی۔

 

California: Chess is called the game of kings, but today we are introducing you to a chess player who can subdue his opponent with lightning speed. Is an expert in getting out of its comfort zone.

Her chess moves are so popular that she has beaten her rivals in dozens of competitions to become one of the world's best chess players.

But 41-year-old Jessica Lauser's ability to beat the seals and the king with her speed on the chessboard sets her apart from other world champions. In a game where sharp eyes like an eagle are needed, the partially blind Jessica has made her mark.
In an interview with CCN, Jessica says she loves the game of chess to the point of insanity and has been playing it since childhood, but she never let her disability get in the way of her obsession. ۔ "I feel equal when I play chess. When you start playing, it doesn't matter who you are, what your physical condition is, where you belong," he said. And no matter how rich you are, the game starts on the basis of equality.

Regarding her blindness, Jessica says that she was born prematurely and her eyes were affected by a lack of oxygen called retino-therapeutic in medical parlance, which completely lost the sight of one of her eyes. Gone when with the other eye they look very mediocre.

"I started learning the game at the age of seven," he says. "The chess pieces on the board look very blurry. I can't identify many pieces. To identify a piece, they She puts her finger on it and asks what it is. And then she goes on her way.

In October last year, Jessica competed with four other athletes in the annual International Competition for the Disabled, the Olympiad, and Jessica's team made it into the top ten out of 60 teams from 44 countries.

Share the Love


Source
You Might Also Like
Comments By User
Add Your Comment
Your comment must be minimum 30 and maximum 200 charachters.
Your comment must be held for moderation.
If you are adding link in comment, Kindly add below link into your Blog/Website and add Verification Link. Else link will be removed from comment.